Friday, 18 December 2015

سیکس اور عورت

6 comments
پچھلے دنوں میں نے ایک جنسی لطیفہ پوسٹ کیا جس پہ بحث چھڑ گئی۔ زیادہ تر کمنٹس تو نظر انداز کرنے والے تھے مگر میرے دو معزز دوست ایسی بات کر رہے تھے جن کا جواب دینا لازمی تھا۔ لہذا ننگی باتیں ہوئیں۔ لیکن کچھ ایسے افراد جنکی زندگی کا واحد مقصد گلی کوچوں کے تھڑوں پر بیٹھ کا آتی جاتیوں کے بارے میں رائے زنی کرنا ہوتا ہے۔ وہ سوشل میڈیا جیسے باکمال فورم پر آ کر بھی عادتا اوچھی حرکتیں کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ انہوں نے میرے کمنٹس کے سکرین شاٹس لیے اور اب گلی گلی ملکوں ملکوں گروپوں گروپوں لیے گھوم رہے ہیں کہ دیکھو یہ عورت کیسی ننگی باتیں کرتی ہے۔۔

 مجھے ایسے بونوں کی رتی برابر پرواہ نہیں لیکن چونکہ کہ اب موضوع چھڑا ہے اور بچہ لوگ بھی گرم ہوئے گھوم رہے ہیں تو مجھے مناسب لگ رہا ہے کہ یہ اچھا موقع ہے کہ میں اپنے موقف کو تفصیل سے ’کھول کر‘ بیان کر دوں۔

سیکس ایک آرٹ ہے۔ فن ہے۔ اس کے لیے جاندار قسم کی ذہنی قوت اور جنسی ہم آہنگی درکار ہے۔۔ جو لوگ اس سے محروم ہوتے ہیں دوران سیکس ان کی حرکات و سکنات میں اضطراب پایا جاتا ہے ۔ ایسے لوگوں میں حیوانی خواہش انگڑائی تو لے رہی ہوتی ہے مگر بوجہ کم علمی و جہالت اور لطافت و جمالیاتی حس سے محرومی کی وجہ سے وہ ٹھیک طریقے سے انکا لطف اٹھانے سے قاصر رہتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر ان کی انسانی جنسی خواہش درندگی کا روپ دھار لیتی ہے اور وہ ۔۔زور زبردستی کرنے۔۔ خون نکالنے۔ من مانی کرنے،، جسمانی طاقت دیکھانے کو سیکس سمجھنے لگتے ہیں بلکہ اس سب کو وہ اپنا پیدائشی حق سمجھنے لگتے ہیں۔ ایسے مواقع پر سمجھدار عورت اپنی ممکنہ مجبوری کی وجہ سے مرد کے سامنے سرنگوں تو ہو جاتی ہے لیکن ایسے مرد کی حیثیت اسکی نظر میں اس کتے سے زیادہ نہیں رہتی جو اسے بھنبھوڑ رہا ہوتا ہے اور جس سے خلاصی حاصل کرنے کا واحد راستہ ہڈی ڈال کر سائیڈ پہ ہو جانا ہی رہ جاتا ہے۔ دوستو یاد رکھیں اگر آپ کی قربت عورت کو یہ احساس نا دلا سکے کہ وہ کسی جزیرے کی شہزادی ہے تو آپ ایک ناکام مرد ہیں۔ اگر آپ کا لمس اس کی ذات پر نشہ اور سرشاری کی کیفیت نا طاری کر سکے تو مان لین کہ آپ کو سیکس کرنا نہیں آتا۔۔ اصیل مرد کی قربت میں عورت کو اپنا وجود ہیرے جواہرات سے مزین مھسوس ہوتا ہے جبکہ دوسری صورت میں گندگی کا ڈھیر۔۔

  آپ لاکھ مجھے گالی دیں مگر یہ حقیقت اپنی جگہ قائم رہے گی کہ سیکس کے متعلق عورت بھی ایک رائے رکھتی ہے۔۔ سیکس کے متعلق اس کے بھی مخصوص احساسات ہیں۔۔ اسکی بھی چوائس ہے۔۔ دوران سیکس عورت کو کچھ اچھا لگ رہا ہوتا ہے۔ کچھ اچھا نہیں لگ رہا ہوتا۔۔ وہ کچھ چاہ رہی ہوتی ہے اور کچھ نہیں چاہ رہی ہوتی۔۔ وہ یا تو مرد کی قربت کا مزہ لے رہی ہوتی ہے یا پھر اسے ہڈی ڈال رہی ہوتی ہے (یہ دریافت کرنا مرد کی ذمہ داری ہے کیونکہ بعض دفعہ وہ اتنی بے نیاز ہوتی ہے کہ اسکا اظہار کرنا بھی گوارا نہیں کرتی) جو زوایہ بھی پکڑ لیں یہ سچ ہے کہ  سیکس میں عورت برابر کی شریک کار ہے۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گی کہ عورت مرد سے زیادہ لطف اندوز ہوتی ہے۔ سیکس عورت کے لیے ہے۔ مرد اسکا سیکس ورکر ہے( اسکی سادہ سی دلیل یہ ہے کہ دوران سیکس مشقت والا سارا کام مرد کرتا ہے) اگر اسکا سیکس ورکر اپنے فرائض ٹھیک سے سرانجام دینے سے قاصر رہتا ہے تو عورت اس سے بور ہونے لگتی ہے۔ اکتا جاتی ہے۔ لہذا جن مردوں کو یہ شکایت ہے کہ ان کی بیویاں ان میں دلچسپی کا اظہار نہیں کرتی انہیں چاہیے کہ ممکنہ وجوہات ڈھونڈ کر انہیں رفو کریں۔ اپنی خامیاں دور کریں۔ خود کو بھی ایجوکیٹ کریں اوور اپنی بیویوں کو بھی۔

  کچھ جوڑوں میں تو شروع سے ہی سیکسوئیل کمپیٹیبلٹی نہیں ہوتی۔ انکا الگ ہو جانا ہی بہتر ہے کیونکہ  معاش کے ساتھ ساتھ سیکوشئیل کمپیٹیبیلٹی کے بغیر کامیاب تعلق کا تصور ناممکن ہے وہ بھی اس صورت میں کہ جوڑا جسنی طور پر صحت مند، جاندار اور باشعور ہو۔(ایک ہوش مند مرد یاعورت اپنے پارٹنر کی  شراکت کے بغیرسیکس انجوائے نہیں کر سکتا۔۔ اگر وہ کر رہا ہے تو ذہنی مریض ہے۔)

میں اپنی کولیگز میں سب سے جونئیر ہوں۔ میری سب کولیگز تیس سے لے کر پچپن کے پیٹے میں ہیں۔۔ دو نے حج کیے ہوئے ہیں۔۔ ایک نے عمرہ کر رکھا ہے۔۔ جبکہ ایک کا تعلق خالص سید فیملی سے ہے۔۔ روزانہ دوران لنچ جب محفل جمتی ہے تو انکی باتوں ، لطائف،،حقائق و واقعات کا زیادہ تر موضوع سیکس ہوتا ہے۔۔ قہقے ہوتے ہیں۔۔ ٹھٹھہ لگایا جاتا ہے۔ وہ سب لطف اندوز ہوتی ہیں۔یہ صرف ایک مثال ہے۔ مین جانتی ہوں کہ تقریبا ہربے تکلف اور نجی محفل میں ایسے ہی لطف اندوز ہوا جاتا ہے۔ بتانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ عورت بھی سیکس سے متعلق سوچتی ہے۔ بات کرتی ہے۔۔ رائے زنی کرتی ہے اور نقطہ نظر قائم کرتی ہے۔
۔
میرے بچو۔ ایسے موضوع روز روز نہیں چھڑتے۔۔ لہذا میں بغیر کوئی لگی لپٹی کے نصیحت کرتی جاتی ہوں کہ کوئی بھی عقل مند عورت ایسے مرد سے  وفا نہیں کرتی جو..

اسے عزت نا دے( ownership )
معاشی طور پر کمزور ہو
اسے جنسی آسودگی نا فراہم کر سکے

 ایسا مرد عورت پر بوجھ ہے۔ اسکے گلے کا پھندا ہے۔ (اب ہمارا سماجی نظام اتنا ناقص ہے کہ ہم نے چالاکی سے عورت کو یہ باور کروا رکھا ہے کہ ہر ایرے غیرے نتھو ولد خیرے کے ساتھ اسکا رہنا عین عبادت اور فرض ہے لہذا وہ وفا کو خود پر طاری کر کے بلکہ مسلط کر کے عجیب ترحمانہ زندگی گزارتی ہے)۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر ایسے مردوں کو ہمیشہ عدم تحفظ کا احساس رہتا ہے۔۔ یہ عدم تحفظ انکی باتوں اور افعال سے عیاں ہوتا رہتا ہے۔ مثلا ایسے مرد حد درجہ شکی مزاج ہوتے ہیں۔ وہ اپنی عورتوں پر نظر رکھتے ہیں۔۔ بلکہ ان کی رکھوالی کرتے ہیں۔ایسے کسی مرد کی بیوی اگر ہنس کر اپنے کزن سے دعا سلام بھی کر لے تو اسے موت پڑ جاتی ہے۔ یہ لوگ  مجبورا اپنی بیووں کو موبائل تو دلا دیتے ہیں مگر outgoing بند کر دیتے ہیں۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔ میں تو کہتی ہوں کہ اگر ہمارے یہاں اینج میرج کا رواج نا ہوتا تو ایسے مرد عورتوں سے محروم نظر آتے۔۔ لیکن سات سلام ہمارے سماجی و معاشی نظام کی کارستانیوں کو جس نے ایسے چغدوں کو بھی بچی باز بنا دیا۔۔ اورآج وہ اس معاملے میں ہر فن مولا قسم کے ماہر بنے گھومتے ہیں۔۔ خود کو ہر گندی حرکت کا حقدار سمجھتے ہیں لیکن اگر کوئی خاتون اس بارے میں بات بھی کرے تو کہتے ہیں۔۔ دیکھو دیکھو یہ عورت ننگی باتیں کرتی ہے۔

6 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔